پاکستان کے افغان سرحد کے ساتھ واقع وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں پانچ افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں.
پاکستان کے دو انٹیلی جنس عہدے داروں کا کہنا ہے کہ امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے شمالی وزیرستان کے گاٶں سیدگئی میں ایک مشتبہ ٹھکانے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے. انہوں نے حملے میں پانچ جنگجوٶں کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے.
ایک اور سکیورٹی عہدے دار نے بتایا ہے کہ ڈرون طیارے نے عصمت اللہ نامی ایک قبائلی کے مکان پر دو میزائل داغے ہیں جس سے مکان کا تباہ ہو گیا.اس عہدے دار کے مطابق عصمت اللہ کے طالبان جنگجوٶں کے ساتھ تعلقات تھے.فوری طور پر مرنے والوں کی شناخت معلوم نہیں ہو سکی.
گذشتہ ہفتے شمالی وزیرستان میں مریکی ڈرونز نے تین میزائل حملے کئے تھے جن میں سات غیر ملکیوں سمیت سترہ افراد ہلاک ہو گئے تھے. امریکی اور پاکستانی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں زیادہ تر القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے جنگجو نشانہ بن رہے ہیں جبکہ مقامی لوگوں اور علاقے تک رسائی رکھنے والی مذہبی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عام لوگ اور خاص طور پر خواتین اور بچے مارے جا رہے ہیں.
امریکی سی آئی اے نے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے اگست 2008ء سے اب تک افغان سرحد کے قریب پاکستانی علاقوں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں ستر میزائل حملے کئے ہیں جن میں چھے سو ساٹھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں.پاکستانی ارباب اقتدار آئے دن امریکا کے ڈرون حملوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اور انہیں اپنی خود مختاری اور علاقائی سرحدوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں.لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان افغان سرحد کے قریب واقع قبائلی علاقوں میں مشتبہ جنگجوٶں کے خلاف میزائل حملوں کے لئے ایک خفیہ معاہدہ موجود ہے لیکن پاکستانی حکومت ایسے کسی معاہدے سے انکار کرتی رہی ہے.
پاکستان کے دو انٹیلی جنس عہدے داروں کا کہنا ہے کہ امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے شمالی وزیرستان کے گاٶں سیدگئی میں ایک مشتبہ ٹھکانے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے. انہوں نے حملے میں پانچ جنگجوٶں کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے.
ایک اور سکیورٹی عہدے دار نے بتایا ہے کہ ڈرون طیارے نے عصمت اللہ نامی ایک قبائلی کے مکان پر دو میزائل داغے ہیں جس سے مکان کا تباہ ہو گیا.اس عہدے دار کے مطابق عصمت اللہ کے طالبان جنگجوٶں کے ساتھ تعلقات تھے.فوری طور پر مرنے والوں کی شناخت معلوم نہیں ہو سکی.
گذشتہ ہفتے شمالی وزیرستان میں مریکی ڈرونز نے تین میزائل حملے کئے تھے جن میں سات غیر ملکیوں سمیت سترہ افراد ہلاک ہو گئے تھے. امریکی اور پاکستانی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں زیادہ تر القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے جنگجو نشانہ بن رہے ہیں جبکہ مقامی لوگوں اور علاقے تک رسائی رکھنے والی مذہبی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عام لوگ اور خاص طور پر خواتین اور بچے مارے جا رہے ہیں.
امریکی سی آئی اے نے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے اگست 2008ء سے اب تک افغان سرحد کے قریب پاکستانی علاقوں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں ستر میزائل حملے کئے ہیں جن میں چھے سو ساٹھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں.پاکستانی ارباب اقتدار آئے دن امریکا کے ڈرون حملوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اور انہیں اپنی خود مختاری اور علاقائی سرحدوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں.لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان افغان سرحد کے قریب واقع قبائلی علاقوں میں مشتبہ جنگجوٶں کے خلاف میزائل حملوں کے لئے ایک خفیہ معاہدہ موجود ہے لیکن پاکستانی حکومت ایسے کسی معاہدے سے انکار کرتی رہی ہے.
إرسال تعليق