عراقی اور غیر ملکی زائرین کی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے روضے پر حاضری
دہشت گردی کے حملوں کے خطرے کے باوجود عراق کے مختلف علاقوں اور دوسرے ممالک سے ہزاروں شیعہ زائرین حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور دوسرے شہداء کی یاد میں یوم عاشور کی تقاریب میں شرکت کے لئے جنوبی شہر کربلا پہنچ گئے ہیں اور ہزاروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے.
یوم عاشور کے موقع پر بغداد سے ایک سو دس کلومیٹر جنوب میں واقع کربلا شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں.کربلا کے پولیس سربراہ جنرل علی جاسم محمد نے بتا یا ہے کہ شہر میں سکیورٹی فورسز کے قریبا پچیس ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے.
کربلا شہر کے اوپر نگرانی کے لئے ہیلی کاپٹر پروازیں کر رہے ہیں اور چیک پوائنٹس پر لوگوں کی جامہ تلاشی کے لئے جاسوس کتوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے.شہر میں ممکنہ خاتون خودکش حملہ آوروں کے داخلے کو روکنے اور پکڑنے کے لئے سکیورٹی فورسز کی چھے سو خواتین اہلکار تعینات کی گئی ہیں.
دہشت گردی کی کسی کارروائی سے بچنے کے لئے کربلا آنے والے زائرین کو مختلف چیک پوائنٹس سے گزارا جا رہا ہے جس کے بعد انہیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضہ مبارک کی جانب جانے کی اجازت دی جا رہی ہے.کربلا میں عزاداروں کا مرکزی جلوس اتوار کو نکال جائے گا لیکن عراق بھر میں محرم کے آغاز سے ہی ماتمی جلوس نکالے جا رہے ہیں.
صوبہ کربلا کے گورنر امل عدن الحر نے بتایا ہے کہ کربلا میں قریباً ساٹھ ہزار غیر ملکی زائرین کی ماتمی جلوسوں اور مجالس میں شرکت کے لئے کی آمد متوقع ہے اور ہفتہ کی شام تک ہزاروں غیر ملکی کربلا پہنچ چکے ہیں. عراقی حکام نے غیر ملکیوں کے سوائن فلو کا شکار ہونے کا پتا چلانے کے لئے بھی خاص انتظامات کر رکھے ہیں .مشتبہ غیر ملکیوں کو ٹیسٹوں کے عمل سے گزارا جا رہا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹیسٹوں کے لئے مراکز صحت میں جائیں.
گورنر امل عدن الحر نے کا کہنا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کو قریباً دس لاکھ شیعہ زائرین کربلا آئیں گے.عراقی حکام کے مطابق کربلا آنے والے زیادہ تر غیر ملکی شیعہ زائرین کا تعلق پاکستان، سعودی عرب، ایران، بحرین، کویت، اومان، تنزانیہ اور بعض خلیجی ممالک سے ہے.
دہشت گردی کے حملوں کے خطرے کے باوجود عراق کے مختلف علاقوں اور دوسرے ممالک سے ہزاروں شیعہ زائرین حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور دوسرے شہداء کی یاد میں یوم عاشور کی تقاریب میں شرکت کے لئے جنوبی شہر کربلا پہنچ گئے ہیں اور ہزاروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے.
یوم عاشور کے موقع پر بغداد سے ایک سو دس کلومیٹر جنوب میں واقع کربلا شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں.کربلا کے پولیس سربراہ جنرل علی جاسم محمد نے بتا یا ہے کہ شہر میں سکیورٹی فورسز کے قریبا پچیس ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے.
کربلا شہر کے اوپر نگرانی کے لئے ہیلی کاپٹر پروازیں کر رہے ہیں اور چیک پوائنٹس پر لوگوں کی جامہ تلاشی کے لئے جاسوس کتوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے.شہر میں ممکنہ خاتون خودکش حملہ آوروں کے داخلے کو روکنے اور پکڑنے کے لئے سکیورٹی فورسز کی چھے سو خواتین اہلکار تعینات کی گئی ہیں.
دہشت گردی کی کسی کارروائی سے بچنے کے لئے کربلا آنے والے زائرین کو مختلف چیک پوائنٹس سے گزارا جا رہا ہے جس کے بعد انہیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضہ مبارک کی جانب جانے کی اجازت دی جا رہی ہے.کربلا میں عزاداروں کا مرکزی جلوس اتوار کو نکال جائے گا لیکن عراق بھر میں محرم کے آغاز سے ہی ماتمی جلوس نکالے جا رہے ہیں.
صوبہ کربلا کے گورنر امل عدن الحر نے بتایا ہے کہ کربلا میں قریباً ساٹھ ہزار غیر ملکی زائرین کی ماتمی جلوسوں اور مجالس میں شرکت کے لئے کی آمد متوقع ہے اور ہفتہ کی شام تک ہزاروں غیر ملکی کربلا پہنچ چکے ہیں. عراقی حکام نے غیر ملکیوں کے سوائن فلو کا شکار ہونے کا پتا چلانے کے لئے بھی خاص انتظامات کر رکھے ہیں .مشتبہ غیر ملکیوں کو ٹیسٹوں کے عمل سے گزارا جا رہا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹیسٹوں کے لئے مراکز صحت میں جائیں.
گورنر امل عدن الحر نے کا کہنا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کو قریباً دس لاکھ شیعہ زائرین کربلا آئیں گے.عراقی حکام کے مطابق کربلا آنے والے زیادہ تر غیر ملکی شیعہ زائرین کا تعلق پاکستان، سعودی عرب، ایران، بحرین، کویت، اومان، تنزانیہ اور بعض خلیجی ممالک سے ہے.
إرسال تعليق