ان پانچوں امریکیوں کو سخت حفاظتی انتظامات میں لاہور سے سرگودھا لایا گیا جہاں انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت کے جج نے پانچ امریکیوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے چھٹے ملزم کو عدم ثبوت کی بنا پر مقدمے سے بری کر دیا ہے۔
ان پانچوں امریکیوں کو دسمبر میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں سے تعلق کے الزام میں سرگودھا سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ان پر دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا تھا. اگر ان پرالزامات درست ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں عمر قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے.
جج انور نظیر نے جب مشتبہ ملزموں سے ان کے القاعدہ سے تعلق کے بارے میں پوچھا تو ان میں سے دو نے کہا کہ ان کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ افغانستان میں جانا چاہتے تھے جہاں امریکا اور نیٹو فورسز کو طالبان کی بدترین مزاحمت کا سامنا ہے.
پبلک پراسیکیوٹر ندیم اکرم چیمہ نے بتایا ہے کہ ''ایک مشتبہ ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وہ افغانستان میں مسلمانوں کی مدد کے لئے جانا چاہتے تھے اور جب جج نے ان سے کہا کہ کیا وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ افغانستان جانا چاہتے تھے تو ان میں سے ایک نے کہا کہ جی ہاں ہم اس ملک ہی میں جانا چاہتے تھے''.
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سے پولیس نے ملزموں کا مزید جسمانی ریمانڈ نہیں مانگا تھا جس کے بعدجج نے امریکیوں کو جیل بھیجنے کا حکم سنایا، جبکہ شواہد نہ پیش کیے جانے پر عدالت نے امریکی شہری عمر فاروق کے پاکستانی والد خالد فاروق کو مقدمے سے بری کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ امریکی شہریوں کے خلاف درج کی گئی ابتدائی اطلاعی رپورٹ ایف آئی آر کو دوبارہ کھولا جائے اور ان کے وکلاء کو ایف آئی آر کی کاپیاں فراہم کی جائیں۔ جج نے پانچوں امریکیوں کے مقدمے کا چالان 18 جنوری کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے.
إرسال تعليق