اخبار مشرق وسطی | یمن میں فرانسیسی سفارتخانہ بھی تا اطلاع ثانی بند کر دیا گیا
امریکا، برطانیہ کے بعد سوموار کے روز فرانس نے بھی یمن میں اپنا سفارتخانہ تا اطلاع ثانی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ القاعدہ نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والی متعدد تنظیموں نے سفارتخانے پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
فرانسیسی دفتر خارجہ کے ترجمان برناڈ ویرو کا کہنا ہے کہ یمن میں ہمارے سفیر صنعاء میں فرانسیسی مشن کی عمارت میں پبلک ڈیلنگ کا کام نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہا جزیرہ نما عرب میں سرگرم مختلف تنظیموں نے یمن میں غیر ملکی سفارتخانوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ان دھمکیوں کے بعد سفارتخانے کی سیکیورٹی کا لیول بڑھا دیا گیا ہے۔
ادھر یمن میں سپین کے سفارتخانے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا مشن صنعاء میں حسب معمول کام کر رہا ہے۔ ہسپانوی اخبار "الموندو" کا کہنا ہے کہ پیر کے روز یمن میں ہسپانوی سفارتخانہ پبلک درخواستیں وصول نہیں کرے گا۔
درایں اثنا یمن میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں القاعدہ کے دو جنگجو ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے جبکہ سوموار کو امریکا اور برطانیہ نے صنعا میں مسلسل دوسرے روز بھی اپنے سفارت خانے بند رکھے ہیں.
یمنی حکام کے مطابق القاعدہ کے جن جنگجوٶں کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی جھڑپیں جاری ہیں،ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی دھمکیوں کی وجہ سے ہی امریکا نے صنعا میں اپنا سفارت خانہ بند کیا ہے.
اطلاعات کے مطابق یمنی حکومت نے القاعدہ کی دھمکیوں کے بعد دارالحکومت صنعا کے ائیرپورٹ اور برطانیہ،جرمنی،سعودی عرب اور امریکا سمیت متعدد ممالک کے سفارتخانوں کے اردگرد سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کردئیے ہیں اور جن علاقوں میں یہ سفارت خانے واقع ہیں،وہاں نئے چیک پوائنٹس قائم کئے جارہے ہیں.
امریکی سفارتخانے نے اپنی بندش کے جواز میں بتایا ہے کہ اسے القاعدہ کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں جبکہ امریکی انٹیلی جنس کو یقین ہے کہ یمن میں القاعدہ کے جنگجو بڑی تعداد میں موجود ہیں.امریکی صدربراک اوباما کے ایک معاون کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا اشارہ ملا تھا کہ القاعدہ صنعا میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہی تھی.
ایک امریکی سفارت کار کا کہنا ہے کہ ''سفارت خانہ فی الحال بند رہے گا اور ہم سکیورٹی کا جائزہ لے رہے ہیں''.برطانیہ نے بھی سکیورٹی خدشات کو اپنبے سفارت خانے کی بندش کی بڑی وجہ قراردیا ہے.تاہم اس نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی.
یمن کو اس وقت ملک کے شمال میں شیعہ حوثیوں کی بغاوت اور جنوب میں علاحدگی پسندوں کی تحریک کا سامنا ہے اور اس کی سکیورٹی فورسز ملک کے مختلف علاقوں میں القاعدہ کے جنگجوٶں کے ساتھ بھی نبرد آزما ہیں.یمن نے حال ہی میں ساحلی علاقوں میں بھی اپنی سکیورٹی کو سخت کردیا ہے تاکہ صومالیہ سے جنگجو دراندازی نہ کرسکیں.
یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق صومالیہ کے الشباب جنگجوٶں کی جانب سے دراندازی کی دھمکیوں کے بعد یمن کے دوساحلی صوبوں میں القاعدہ کے جنگجوٶں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جارہی ہے جبکہ یمن کے مغربی اتحادیوں نے بھی اس خدشہ کے پیش نظراس کی مدد میں اضافہ کردیا ہے کہ ملک میں عدم استحکام کی صورت حال سے القاعدہ کے جنگجو فائدہ اٹھا کر دنیا بھر میں حملے کرسکتے ہیں.
امریکا، برطانیہ کے بعد سوموار کے روز فرانس نے بھی یمن میں اپنا سفارتخانہ تا اطلاع ثانی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ القاعدہ نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والی متعدد تنظیموں نے سفارتخانے پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
فرانسیسی دفتر خارجہ کے ترجمان برناڈ ویرو کا کہنا ہے کہ یمن میں ہمارے سفیر صنعاء میں فرانسیسی مشن کی عمارت میں پبلک ڈیلنگ کا کام نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہا جزیرہ نما عرب میں سرگرم مختلف تنظیموں نے یمن میں غیر ملکی سفارتخانوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ان دھمکیوں کے بعد سفارتخانے کی سیکیورٹی کا لیول بڑھا دیا گیا ہے۔
ادھر یمن میں سپین کے سفارتخانے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا مشن صنعاء میں حسب معمول کام کر رہا ہے۔ ہسپانوی اخبار "الموندو" کا کہنا ہے کہ پیر کے روز یمن میں ہسپانوی سفارتخانہ پبلک درخواستیں وصول نہیں کرے گا۔
درایں اثنا یمن میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں القاعدہ کے دو جنگجو ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے جبکہ سوموار کو امریکا اور برطانیہ نے صنعا میں مسلسل دوسرے روز بھی اپنے سفارت خانے بند رکھے ہیں.
یمنی حکام کے مطابق القاعدہ کے جن جنگجوٶں کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی جھڑپیں جاری ہیں،ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی دھمکیوں کی وجہ سے ہی امریکا نے صنعا میں اپنا سفارت خانہ بند کیا ہے.
اطلاعات کے مطابق یمنی حکومت نے القاعدہ کی دھمکیوں کے بعد دارالحکومت صنعا کے ائیرپورٹ اور برطانیہ،جرمنی،سعودی عرب اور امریکا سمیت متعدد ممالک کے سفارتخانوں کے اردگرد سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کردئیے ہیں اور جن علاقوں میں یہ سفارت خانے واقع ہیں،وہاں نئے چیک پوائنٹس قائم کئے جارہے ہیں.
امریکی سفارتخانے نے اپنی بندش کے جواز میں بتایا ہے کہ اسے القاعدہ کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں جبکہ امریکی انٹیلی جنس کو یقین ہے کہ یمن میں القاعدہ کے جنگجو بڑی تعداد میں موجود ہیں.امریکی صدربراک اوباما کے ایک معاون کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا اشارہ ملا تھا کہ القاعدہ صنعا میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہی تھی.
ایک امریکی سفارت کار کا کہنا ہے کہ ''سفارت خانہ فی الحال بند رہے گا اور ہم سکیورٹی کا جائزہ لے رہے ہیں''.برطانیہ نے بھی سکیورٹی خدشات کو اپنبے سفارت خانے کی بندش کی بڑی وجہ قراردیا ہے.تاہم اس نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی.
یمن کو اس وقت ملک کے شمال میں شیعہ حوثیوں کی بغاوت اور جنوب میں علاحدگی پسندوں کی تحریک کا سامنا ہے اور اس کی سکیورٹی فورسز ملک کے مختلف علاقوں میں القاعدہ کے جنگجوٶں کے ساتھ بھی نبرد آزما ہیں.یمن نے حال ہی میں ساحلی علاقوں میں بھی اپنی سکیورٹی کو سخت کردیا ہے تاکہ صومالیہ سے جنگجو دراندازی نہ کرسکیں.
یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق صومالیہ کے الشباب جنگجوٶں کی جانب سے دراندازی کی دھمکیوں کے بعد یمن کے دوساحلی صوبوں میں القاعدہ کے جنگجوٶں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جارہی ہے جبکہ یمن کے مغربی اتحادیوں نے بھی اس خدشہ کے پیش نظراس کی مدد میں اضافہ کردیا ہے کہ ملک میں عدم استحکام کی صورت حال سے القاعدہ کے جنگجو فائدہ اٹھا کر دنیا بھر میں حملے کرسکتے ہیں.
إرسال تعليق