سعودی عرب کی ایک خاتون صحافیہ نے یمنی سرحد پرمیدان جنگ میں سعودی سکیورٹی فورسزاور شیعہ حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی کی رپورٹنگ کی ہے اور یہ سعودی عرب جیسے قدامت پسند معاشرے میں ایک منفردمثال ہے.
سعودی روزنامے الریاض میں شائع ہونےوالی ایک رپورٹ کے مطابق سمیرہ المدنی کو میدان جنگ میں انتہائی کٹھن حالات کا سامنا رہا ہے لیکن وطن کی محبت کی وجہ سے وہ اپنی تمام مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب رہی ہیں.
انہوں نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جس لمحہ میں نے اپنے ہیروزکو اپنے وطن کو فخرکا نشان بناتے ہوئے دیکھا ہے تو میں سب کچھ بھول گئی تھی''.
سمیرہ المدنی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ''جب وہ سعودی فوجیوں کو اپنے وطن کے دفاع کے لئے لڑتے ہوئے دیکھتی تھیں تو ان کا سر فخر سے بلند ہوجاتا تھا''.انہوں نے کہا ''میں نے ایسی چیزیں دیکھی ہیں جو میرے اور میرے ملک کے حافظے کا حصہ بن گئی ہیں''.
سمیرہ المدنی میدان جنگ میں سعودی سکیورٹی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی کی رپورٹنگ کے دوران ہمیشہ فوجی وردی پہنتی رہی ہیں.
انہوں نے رپورٹنگ کے دوران سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبہ جازان کے امیر محمد بن ناصر بن عبدالعزیز سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں جنگ والے علاقے اور تنازعے کے پس منظر کے بارے میں تفصیل سے بتایا.انہوں نے محاذ پرمتعدد فوجیوں کے انٹرویوز بھی کئے.
سمیرہ المدنی کا کہنا ہے کہ ''وہ پہلی سعودی خاتون ہیں جنہیں اپنے ملک کی اس اہم جنگ کوآنکھوں سے دیکھنے اور اس کی رپورٹنگ کا موقع ملاہے.اس کے علاوہ انہیں حوصلے اور حب الوطنی کے عملی مظاہرے کے مشاہدے کا بھی موقع ملا ہے''.
الریاض کے مطابق سمیرة المدنی کی حوثی باغیوں اور سعودی سکیورٹی فورسز کے درمیان جنگ کی کوریج ''مکمل اور ''جامع'' ہے.انہوں نے بڑی مہارت کے ساتھ سعودی ہیروز کی جانب سے دراندازوں کے خلاف کارروائی میں اپنے مادر وطن کے دفاع کے لئے قربانیوں،جذبے اور لگن کی عکاسی کی ہے''.
سعودی روزنامے الریاض میں شائع ہونےوالی ایک رپورٹ کے مطابق سمیرہ المدنی کو میدان جنگ میں انتہائی کٹھن حالات کا سامنا رہا ہے لیکن وطن کی محبت کی وجہ سے وہ اپنی تمام مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب رہی ہیں.
انہوں نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جس لمحہ میں نے اپنے ہیروزکو اپنے وطن کو فخرکا نشان بناتے ہوئے دیکھا ہے تو میں سب کچھ بھول گئی تھی''.
سمیرہ المدنی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ''جب وہ سعودی فوجیوں کو اپنے وطن کے دفاع کے لئے لڑتے ہوئے دیکھتی تھیں تو ان کا سر فخر سے بلند ہوجاتا تھا''.انہوں نے کہا ''میں نے ایسی چیزیں دیکھی ہیں جو میرے اور میرے ملک کے حافظے کا حصہ بن گئی ہیں''.
سمیرہ المدنی میدان جنگ میں سعودی سکیورٹی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی کی رپورٹنگ کے دوران ہمیشہ فوجی وردی پہنتی رہی ہیں.
انہوں نے رپورٹنگ کے دوران سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبہ جازان کے امیر محمد بن ناصر بن عبدالعزیز سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں جنگ والے علاقے اور تنازعے کے پس منظر کے بارے میں تفصیل سے بتایا.انہوں نے محاذ پرمتعدد فوجیوں کے انٹرویوز بھی کئے.
سمیرہ المدنی کا کہنا ہے کہ ''وہ پہلی سعودی خاتون ہیں جنہیں اپنے ملک کی اس اہم جنگ کوآنکھوں سے دیکھنے اور اس کی رپورٹنگ کا موقع ملاہے.اس کے علاوہ انہیں حوصلے اور حب الوطنی کے عملی مظاہرے کے مشاہدے کا بھی موقع ملا ہے''.
الریاض کے مطابق سمیرة المدنی کی حوثی باغیوں اور سعودی سکیورٹی فورسز کے درمیان جنگ کی کوریج ''مکمل اور ''جامع'' ہے.انہوں نے بڑی مہارت کے ساتھ سعودی ہیروز کی جانب سے دراندازوں کے خلاف کارروائی میں اپنے مادر وطن کے دفاع کے لئے قربانیوں،جذبے اور لگن کی عکاسی کی ہے''.
إرسال تعليق