اخبار مشرق وسطی | حماس نے عربوں سے وفاداری کا عزم ظاہرکیا ہے:سعودی وزیرخارجہ

' حماس ایک عرب تحریک ہے،خالدمشعل کا موقف''

حماس نے عربوں سے وفاداری کا عزم ظاہرکیا ہے:سعودی وزیرخارجہ

خالد مشعل کا کہنا ہے کہ حماس اور فتح تحریک کے درمیان قومی مصالحت کے لئے ہونے والی بات چیت نتیجہ خیزثابت ہونے کو ہے.

خالد مشعل کا کہنا ہے کہ حماس اور فتح تحریک کے درمیان قومی مصالحت کے لئے ہونے والی بات چیت نتیجہ خیزثابت ہونے کو ہے.

شرم الشیخ .ایجنسیاں

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعودالفیصل کا کہنا ہے کہ حماس کے جلاوطن رہ نما خالد مشعل نے سعودی عرب کو یقین دلایا ہے کہ ان کی تحریک عرب ریاستوں کی وفادار ہے.

مصر کے ساحلی مقام شرم الشیخ میں منگل صدر حسنی مبارک کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ سعودالفیصل نے کہا کہ انہوں نے خالد مشعل سے یہ پوچھا تھا کہ کیا ان کی حماس تحریک عربوں کے ساتھ ہےیا دوسروں کے ساتھ.اس پر خالد مشعل نے بالاصرار یہ بات کہی تھی کہ حماس ایک عرب تحریک ہے اورفلسطینی تنازعہ ایک عرب ایشو ہے''.

سعودی وزیرخارجہ کے نزدیک دوسروں سے مراد ممکنہ طور پر ایران ہی ہوسکتا ہے جوعلاقے میں حماس کا ایک بڑا حامی سمجھا جاتا ہے.شہزادہ سعودالفیصل اورحماس کے جلا وطن رہ نما خالد مشعل کے درمیان اتوار کو ریاض میں ملاقات ہوئی تھی.

سعودی عرب نے حال ہی میں ایران پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ شمالی یمن سے تعلق رکھنے والے حوثی باغیوں کی حمایت کررہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے.حوثی باغیوں اورسعودی سکیورٹی فورسز کے درمیان دونوں ممالک کی سرحد پرلڑائی جاری ہے اور سعودی فورسز نے حوثی باغیوں کو اپنے علاقے سے نکال باہر کیا ہے.

سعودی وزیرخارجہ کا مصر کا دورہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مشرق وسطیٰ امن بات چیت کی بحالی کے لئے کوششوں کا حصہ ہے،جو گذشتہ ایک سال سے تعطل کا شکار ہے.


حسنی مبارک کے ساتھ بات چیت

فلسطینی صدرمحمودعباس اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم سوموار کو مصری صدر حسنی مبارک سے بات چیت کے لئے قاہرہ میں تھے.اس سے ایک ہفتہ قبل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مصر کا دورہ کیا تھا.

اتوار کو حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے ریاض میں سعودی قیادت سے بات چیت کے بعد کہا تھا کہ مصر کی ثالثی میں اسلامی تحریک مزاحمت اور فتح کے درمیان ہونے والی مصالحتی بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہونے کو ہے.

اسرائیل ،مصراورامریکا یہ چاہتے ہیں کہ فلسطینی صدر محمود عباس صہیونی ریاست کے ساتھ ایک سال قبل منقطع ہونے والی بات چیت کو دوبارہ شروع کریں لیکن وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ منقطع ہونے تک اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے انکار کرچکے ہیں.

فلسطینیوں کا اس بات پر بھی اصرار ہے کہ ان کی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست ان تمام علاقوں پر مشتمل ہونی چاہئے جن پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا.ان میں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس بھی شامل ہے جسے اسرائیل نے قبضے کے بعد اپنی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کوکبھی تسلیم نہیں کیا.

امریکی صدر براک اوباما کے مشرق وسطیٰ کے بارے میں نمائندے جارج میچل بہت جلد خطے کا دورہ کرنے والے ہیں جبکہ مصر کے وزیرخارجہ احمد ابوالغیط اور انٹیلی جنس چیف عمرسلیمان جمعہ کو واشنگٹن جارہے ہیں.

Post a Comment

أحدث أقدم