امریکا کی افغانستان میں''لاعلمی'' پرمبنی جاسوسی کی سرگرمیاں
![]() | |
| افغانستان میں مزاحمت کاروں کے حملوں میں ہلاک ہونے والے تین برطانوی فوجیوں کی لاشیں واپس لندن پہنچے کے بعد سوگواران اپنے رد عمل کا اظہار کررہے ہیں،فائل | |
واشنگٹن.ایجنسیاں
افغانستان میں امریکی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف برائے انٹیلی جنس میجرجنرل میخائل فلائن نے ایک رپورٹ میں گذشتہ آٹھ سال سے جاری جنگ کے دوران انٹیلی جنس کمیونٹی کے کردارکا جائزہ پیش کیا ہے،یہ رپورٹ مرکزبرائے امریکی سکیورٹی تھنک ٹینک نے جاری کی ہے.
انہوں نے امریکی انٹیلی جنس حکام کے بارے میں کہا ہے کہ وہ مقامی معیشت اورجاگیرداروں کے بارے میں مکمل طور پر لاعلم ہیں اور نہ یہ جانتے ہیں کہ طاقت کے کھیل کن لوگوں کے پاس ہے اور ان پر کیسے اثر انداز ہوا جاسکتا ہے.نیز وہ انٹیلی جنس حکام کا ان لوگوں سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے جو کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں.
رپورٹ میں ایک آپریشنزآفیسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ''امریکا کو افغانستان کے بارے میں ناگزیر انٹیلی جنس کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اسے اس ملک کے بارے میں درست اشارے حاصل نہیں ہوتے''.
رپورٹ میں امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کیا گیا ہے اور اس میں بنیادی سطح پر کثیر الجہت ایشوز کے بارے میں معلومات کے حصول کے لئے تبدیلیاں لانے پر زوردیا گیا ہے.
اس میں کہا گیا ہے کہ امریکا مزاحمت کار گروپوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے پر توجہ مرکوزکررہا ہے لیکن وہ اس ماحول کے بارے میں بنیادی سوالات کا جواب دینے میں ناکام رہا ہے جس میں امریکی اوراتحادی فوجیں کام کررہی ہیں اور جن لوگوں کا وہ پیچھا کر رہی ہیں.

إرسال تعليق