اخبار بین الاقوامی | ایران:بی بی سی سمیت 60 اداروں سے عوامی روابط پرپابندی

حکومت کے خلاف نفسیاتی جنگ چھیڑنے کا الزام

ایران:بی بی سی سمیت 60 اداروں سے عوامی روابط پرپابندی

اسلامی انقلاب کی حامی خواتین نے ہاتھوں میں امام خمینی کی تصاویر اٹھا رکھی ہیں

اسلامی انقلاب کی حامی خواتین نے ہاتھوں میں امام خمینی کی تصاویر اٹھا رکھی ہیں

تہران ۔ ایجنسیاں

ایرانی حکومت نے اپنے شہریوں پر بی بی سی،ہیومن رائٹس واچ،اپوزیشن کی ویب سائٹ راہِ سبز اور امریکی فنڈز سے چلنے والے نشریاتی اداروں سمیت ساٹھ سے زائد ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں سے روابط پر پابندی عاید کردی ہے.

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق خارجہ امور کے انچارج نائب وزیرسراغرسانی کا کہنا ہے کہ جن ساٹھ گروپوں کو بلیک لسٹ قراردیا گیا ہے،وہ مغربی حکومتوں کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کو تبدیل کرنے کے لئے برپا کی جانے والی ''نرم جنگ'' کا حصہ ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھنا ایک جُرم ہوگا.

ایران کے سرکاری میڈیا نے سوموار کو نائب وزیرکا نام ظاہر کئے بغیر ان کے بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ ''ان گروپوں کے ساتھ افراد یا اداروں کا کسی بھی قسم کا رابطہ غیر قانونی اور ممنوع ہے''.

نائب وزیرسراغرسانی نے جن اداروں اور تنظیموں کو بلیک لسٹ قراردیا ہے،ان میں امریکی حکومت کے فنڈز سے چلنے والے ریڈیو چینل وائس آف امریکا اور ریڈیو فردا،امریکا میں قائم شاہ کے حامی سیٹلائٹ ٹی وی چینلز،اسرائیلی پبلک ریڈیواور کالعدم مجاہدین خلق تنظیم شامل ہیں.

اس کے علاوہ عالمی نشریاتی اداروں کی طرف سے فارسی میں نشر ہونے والے پرگراموں اور آن لائن معلومات تک رسائی پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے.ایران کی وزارت سراغ رسانی نے ایسے افراد کو بھی خبردار کیا ہے، جو غیر قانونی طور پر غیر ملکی سفارت خانوں سے رابطے میں ہیں۔

نائب وزیر نے عوام پر یہ بھی زوردیا ہے کہ وہ سفارت خانوں یا غیر ملکی شہریوں یا ان کے مراکز سے بے قاعدہ روابط سے گریز کریں.انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ''شہریوں کو دشمنوں نے جو جال بُن رکھے ہیں،ان سے ہوشیار رہنا چاہئے اور قوم کے تحفظ ،غیرملکیوں اورسازشیوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے انٹیلی جنس کی وزارت سے تعاون کرنا چاہئے.

ایران نے جن گروپوں کو بلیک لسٹ قراردیا ہے،ان میں امریکا کا تھنک ٹینک بروکنگ انسٹی ٹیوشنز ،خیراتی ادارہ جارج سوروس اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ اور واشنگٹن میں قائم قومی وقف برائے جمہوریت شامل ہیں.

ان اداروں پر ایران کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ تہران میں اسلامی حکومت کے خاتمے کے لئے نفسیاتی جنگ چھیڑنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔بلیک لسٹ کیے جانے والے اداروں میں ہیومن رائٹس واچ کے علاوہ متعدد امریکی این جی اوز بھی شامل ہیں۔ اپوزیشن گروپ، مجاہدین خلق اور میر حسین موسوی کی گرین موومنٹ کی ویب سائٹ "جرس" پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

پیر ہی کو ایران کے انٹیلی جنس وزیر حیدر مصلحی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یوم عاشور کے موقع پر حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے پر متعددغیرملکیوں کوگرفتار کرلیا گیا ہے.

انہوں نے کہا کہ ''یہ لوگ یوم عاشور سے صرف دو روزقبل ایران میں داخل ہوئے تھے .ان کے کیمرے اور دیگر آلات ضبط کرلئے گئے ہیں''.تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ کتنے غیر ملکیوں کب اور کہاں سے گرفتار کیا گیا ہے.

Post a Comment

أحدث أقدم