اخبار بین الاقوامی | ایران: ماتمی جلوسوں کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

ایران میں شیعوں کے ایک ماتمی جلوس اور تقریب کو حکومت مخالف مظاہرے میں تبدیل ہونے سے روکنے اور اس میں شریک حزب اختلاف کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے ہیں.

اصلاح پسندوں کی ایک ویب سائٹ جرس کی اطلاع کے مطابق پولیس نے ہفتہ کے روز تہران کے امام حسین چوک میں ایک بہت بڑے اجتماع کو منتشر کرنے کے لئے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی ہے لیکن اس کے باوجود مظاہرے میں شریک افراد مزاحمت کرتے ہوئےحکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

اس سے پہلے اسی ویب سائٹ نے اطلاع دی تھی کہ تہران کے مختلف حصوں میں سکیورٹی فورسز کی اپوزیشن کے حامی مظاہرین کے ساتھ شدید محاذ آرائی جاری ہے.

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے تہران میں موجود نمائندے کا کہنا ہے کہ ''پولیس اہکار انقلاب چوک میں جمع ہونے کی کوشش کرنے والے دو سو سے تین سو مظاہرین کو منتشر کرنا چاہتے تھے.انہوں نے بعض مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا.مظاہرین ''مرگ بر آمر'' کے نعرے لگا رہے تھے''.

حالیہ مہینوں کے دوران ایرانی حکومت کے خلاف مظاہروں کے ایک مرکز جامعہ تہران کے قریب حکومت مخالفین نے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی شکل میں جمع ہونے کی کوشش کی. ان میں سے بعض حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے. اس مقام پر ایرانی پولیس کو دو افراد کو گرفتار کرتے دیکھا گیا ہے.

جرس ویب سائٹ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ''ایرانی پولیس تہران کے مختلف علاقوں میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کے ساتھ سختی سے پیش آ رہی ہے اور پولیس اہلکار علاقے سے گزرنے والی کاروں کے شیشے بھی توڑ رہے ہیں''.

ایرانی پولیس کے سربراہ اسماعیل احمدی مقدم نے عاشورہ محرم کے دوران ماتمی جلوسوں کو صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت خلاف مظاہروں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ہفتہ کے روز ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا.

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسنا نے اسماعیل احمدی مقدم کے بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ ''پولیس مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاٶن کرے گی.ہم مظاہرین کی قیادت کرنے والے افراد کی شناخت کریں گے اور انہیں گرفتار کریں گے.

ایران میں چھے ماہ قبل جون میں منعقدہ متنازعہ انتخابات کے بعد سے اصلاح پسند اپوزیشن کے حامیوں اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے اور گذشتہ ہفتے سرکردہ شیعہ عالم دین آیت اللہ حسین علی منتظری کی وفات کے بعد اصلاح پسندوں اور حکومت کے حامیوں کے درمیان اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے.

آیت اللہ منتظری کی وفات یوم عاشور سے چند روز قبل ہوئی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ حکومت مخالف افراد اور گروہ ستائیس دسمبر کو یوم عاشور کے جلوسوں اور دوسری تقریبات کو حکومت کے خلاف مظاہروں میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے. اتوار ہی کو آیت اللہ منتظری کی وفات کے ساتویں روز تعزیتی تقریبات کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے.

Post a Comment

أحدث أقدم