عراق:تیل کے بدلے خوراک پروگرام میں بدعنوانیوں پرقانونی چارہ جوئی کا اعلان
![]() | |
| لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات کو اس بات کا خدشہ ہے کہ ٹونی بلئیر کے بیان سے حکمران جماعت کے لئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں. | |
بغداد،لندن.العربیہ،ایجنسیاں
عراقی وزیرتجارت صفال الدین الصفی نے منگل کو ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے ایک امریکی وکیل کو تیل کے بدلے خوراک پروگرام سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کرنے والی فرموں کے خلاف کارروائی کے لئے کہا ہے.
فرانسیسی اخبار''آزادی'' نے منگل کو ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ عراقی حکومت نے تیل کے بدلے خوراک پروگرام کی خلاف ورزی کرنے والی ترانوے غیرملکی کمپنیوں سے ہرجانے کے طور پر دس ارب ڈالرز کی رقم طلب کی ہے.
اخبار کے مطابق ان کمپنیوں میں فرانس کی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی رینالٹ اوربڑی بنک کار کمپنی بی این پی پاریبس بھی شامل ہیں. تاہم بی این پی پاریبس نے بدعنوانیوں کے الزامات کو مسترد کردیا ہے.
اقوام متحدہ کا عراق کے لئے تیل کے بدلے خوراک پروگرام 1996ء سے 2003ء میں امریکی فوج کے حملے تک جاری رہا تھا.اس کے تحت صدام حسین کی حکومت کو تیل کی محدود مقدار کی فروخت کے بدلے میں انسانی ضرورت کی اشیاء کی درآمد کی اجازت دی گئی تھی کیونکہ 1990ء میں کویت پر چڑھائی کی وجہ سے عراق کو اقوام متحدہ کی سخت پابندیوں کا سامنا تھا.
صدام حکومت نے مبینہ طور پر اس پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی رقوم سے کروڑوں ڈالرزخرد برد کر لئے تھے اور اس کا ایک بہت بڑا اسکینڈل منظرعام پر آیا تھا جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کو سُبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا.
گذشتہ اکتوبر میں امریکی میگزین ''وینٹی فئیر'' نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکا کے فیڈرل ریزرو نے اپریل 2003 سے جون 2004ء کے درمیان بارہ ارب ڈالرز کی رقم عراق منتقل کی تھی جس میں اقوام متحدہ کی جانب سے تیل کے بدلے خوراک پروگرام کی مد میں دی جانے والی رقم بھی شامل تھی.

إرسال تعليق