القاعدہ سے وابستہ اردنی نے سی آئی اے کے ایجنٹوں کو ہلاک کیا:رپورٹ

امریکا کی افغانستان میں''لاعلمی'' پرمبنی جاسوسی کی سرگرمیاں

افغانستان میں مزاحمت کاروں کے حملوں میں ہلاک ہونے والے تین برطانوی فوجیوں کی لاشیں واپس لندن پہنچے کے بعد سوگواران اپنے رد عمل کا اظہار کررہے ہیں،فائل

افغانستان میں مزاحمت کاروں کے حملوں میں ہلاک ہونے والے تین برطانوی فوجیوں کی لاشیں واپس لندن پہنچے کے بعد سوگواران اپنے رد عمل کا اظہار کررہے ہیں،فائل

واشنگٹن.ایجنسیاں

افغانستان میں امریکا کے ملٹری انٹیلی جنس چیف نے جنگ زدہ ملک میں خفیہ اداروں کے کام پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا افغان عوام سے کوئی رابطہ و تعلق نہیں ہے جبکہ یہ رپورٹ بھی منظرعام پر آئی ہے کہ گذشتہ ہفتے جس خودکش بمبار نے سی آئی اے کے سات افسروں کو حملے میں ہلاک کیا تھا،وہ اردن سے تعلق رکھنے والا القاعدہ کا ڈبل ایجنٹ تھا.

افغانستان میں امریکی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف برائے انٹیلی جنس میجرجنرل میخائل فلائن نے ایک رپورٹ میں گذشتہ آٹھ سال سے جاری جنگ کے دوران انٹیلی جنس کمیونٹی کے کردارکا جائزہ پیش کیا ہے،یہ رپورٹ مرکزبرائے امریکی سکیورٹی تھنک ٹینک نے جاری کی ہے.

انہوں نے امریکی انٹیلی جنس حکام کے بارے میں کہا ہے کہ وہ مقامی معیشت اورجاگیرداروں کے بارے میں مکمل طور پر لاعلم ہیں اور نہ یہ جانتے ہیں کہ طاقت کے کھیل کن لوگوں کے پاس ہے اور ان پر کیسے اثر انداز ہوا جاسکتا ہے.نیز وہ انٹیلی جنس حکام کا ان لوگوں سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے جو کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں.

رپورٹ میں ایک آپریشنزآفیسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ''امریکا کو افغانستان کے بارے میں ناگزیر انٹیلی جنس کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اسے اس ملک کے بارے میں درست اشارے حاصل نہیں ہوتے''.

رپورٹ میں امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کیا گیا ہے اور اس میں بنیادی سطح پر کثیر الجہت ایشوز کے بارے میں معلومات کے حصول کے لئے تبدیلیاں لانے پر زوردیا گیا ہے.

اس میں کہا گیا ہے کہ امریکا مزاحمت کار گروپوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے پر توجہ مرکوزکررہا ہے لیکن وہ اس ماحول کے بارے میں بنیادی سوالات کا جواب دینے میں ناکام رہا ہے جس میں امریکی اوراتحادی فوجیں کام کررہی ہیں اور جن لوگوں کا وہ پیچھا کر رہی ہیں.


القاعدہ کا ڈبل ایجنٹ

یہ رپورٹ مشرقی افغانستان میں امریکی فوج کے اڈے پر ایک خودکش حملے میں سی آئی اے کے سات ایجنٹوں کی ہلاکت کے واقعہ سے ایک ہفتہ سے بھی کم عرصے کے بعد جاری کی گئی ہے.

سی آئی اے کی تاریخ کا یہ دوسرا تباہ کن حملہ تھا.این بی سی نیوز نے سوموار کو مغربی انٹیلی جنس عہدے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ خودکش حملہ آورکا اردن سے تعلق تھا اور وہ القاعدہ کا ڈبل بھی نہیں ٹرپل ایجنٹ تھا.

سی آئی اے نے این بی سی کی رپورٹ پرفوری طورپر کوئی تبصرہ نہیں کیا.رپورٹ میں حملہ آورکی شناخت ہمام خلیل ابوملال البلاوی کے طور پرکی ہے.اس کی عمر چھتیس سال تھی اور وہ اردن کے علاقے زرقا سے تعلق رکھتا تھا.

این بی سی نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ اردنی حکام کو یقین ہے کہ البلاوی کی امریکا اوراردن میں تربیت کی گئی تھی.انہوں نے اسے ایک ایجنٹ کے طور پر بھرتی کرکے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ میں دراندازی کے لئے بھیجا تھا.

Post a Comment

أحدث أقدم