صنعا میں امریکی سفارتخانہ دھمکیوں کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا یمن:القاعدہ کے خلاف لڑائی کے لئے مزید ہزاروں اہلکار تعینات

یمن نے تین شورش زدہ صوبوں میں القاعدہ کے خلاف جاری جنگی مہم میں حصہ لینے کے لئے سکیورٹی فورسز کے مزید ہزاروں اہلکاروں کو بھیج دیا ہے اور حکام نے گروپ سے تعلق رکھنے والے پانچ مشتبہ جنگجوٶں کو گرفتارکرنے کا دعویٰ کیا ہے.

یمن کے سکیورٹی ذرائع نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ دارالحکومت صنعا اوردوصوبوں شیبوة اور مآرب میں القاعدہ کے جنگجوٶں کے خلاف مہم جاری ہے.ان کے علاوہ جنوبی صوبے ابین میں بھی القاعدہ کے جنگجوٶں کا پیچھا کیا جارہا ہے.

درایں اثناء صنعا میں امریکا کے سفارتخانے کو دوروز بند رکھنے کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے.امریکی حکام نے اپنا سفارت خانہ کھولنے کا فیصلہ گذشتہ روزیمن کی سرکاری سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں القاعدہ کے دو جنگجوٶں کی ہلاکت کے بعد کیا ہے،ان کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ ان کی دھمکیوں کی وجہ سے ہی امریکا نے صنعا میں اپنا سفارت خانہ بند کیا تھا.

امریکی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم نے سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا ہے''.برطانیہ اور فرانس کے سفارت خانوں نے بھی دوبارہ اپنا کام شروع کردیا ہے تاہم وہ عوام کے لئے بدستور بند ہیں اور صرف دفتری امور نمٹا رہے ہیں.

یمنی حکومت نے القاعدہ کی دھمکیوں کے بعد دارالحکومت صنعا کے ائیرپورٹ اوربرطانیہ،جرمنی،سعودی عرب اور امریکا سمیت متعدد ممالک کے سفارتخانوں کے اردگرد سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کردئیے ہیں اور جن علاقوں میں یہ سفارت خانے واقع ہیں،وہاں نئے چیک پوائنٹس قائم کئے جارہے ہیں.

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن میں بدامنی سے عالمی استحکام کو خطرات لاحق ہیں جبکہ امریکی صدربراک اوباما منگل کو اپنے انٹیلی جنس کے چیف اورقومی سلامتی کے مشیر سے ملاقات کرنے والے ہیں جس میں وہ کرسمس کے موقع پرایک امریکی طیارے کو اڑانے کی ناکام کوشش کی بعد کی صورت حال پرغورمتوقع ہے.

Post a Comment

أحدث أقدم