پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی سکیورٹی فورسز نے افغانستان میں مغربی فوجوں کے مقابلے میں حالیہ مہینوں کے دوران طالبان جنگجوٶں کے خلاف جنگ میں مختصر وقت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں.
وہ اسلام آبادمیں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے جس میں کابینہ ارکان ،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہان اور کمیٹی کے ارکان شریک ہوئے۔ وزیراعظم کاکہناتھاکہ قوم مسلح افواج اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ اور سیاسی قیادت متحد ہے۔
انہوں نے کہاکہ مسلح افواج نے قبائلی علاقوں ،سوات اورمالاکنڈ میں ریکارڈ وقت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور پاکستان کی کامیابیاں افغانستان میں اتحادی افواج کی گذشتہ نو سال کی کامیابیوں پر بھاری ہیں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ''حالیہ مہینوں کے دوران ہم نے دہشت گردوں اور جنگجوں کے خلاف نمایاں کامیابی حاصل کی ہے.سوات اور مالاکنڈ میں قانون کے نفاذکے لئے کارروائی ،فاٹا اورخاص طور پر جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن مختصر اور ریکارڈ وقت میں مکمل کیا گیا ہے''.
پاکستانی وزیراعظم کا یہ بیان امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک کی فوجوں کی افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف جنگ میں ناکامی پرایک کھلی تنقید ہے جبکہ امریکا پاکستان سے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں طالبان جنگجوٶں کے خلاف کارروائی کے لئےمزید دباٶ ڈال رہا ہے اورامریکی صدربراک اوباما نے افغانستان میں طالبان کی زورپکڑتی مزاحمت کو کچلنے کے لئے مزید چالیس ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کررکھا ہے لیکن ان کی نئی فوجی حکومت عملی افغانستان میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے.
پاکستانی وزیراعظم نے بعض غیرملکی عہدے داروں اور میڈیا کی جانب سے اس تنقید کو مسترد کردیا کہ ان کا ملک افغانستان میں مغرب کی مدد کے لئے کچھ نہیں کررہا ہے.ان کا کہنا تھا کہ ''افغانستان میں استحکام اور امن کی بحالی پاکستان کے مفاد میں ہے اور اس سلسلہ میں ہم اپنا تعمیری کردار جاری رکھیں گے''.
سید یوسف رضا گیلانی نے طالبان جنگجوٶں کے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عوام پر بم حملوں کے تناظر میں کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جوابی کارروائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ان کاکہنا تھا کہ مادر وطن کے دفاع،آزادی اور خود مختاری کے لیے کسی کوپاکستان کی مسلح افواج کی صلاحیتوں پر شک نہیں کرنا چاہئے اورنہ عوام اور سیاسی قیادت کے عزم کو کمزور سمجھنا چاہیے۔
وزیر اعظم نے اجلاس کو بتایا کہ پچھلے چھے ماہ میں خوراک،بحالی اورامدادی کارروائیوں کیلئے سرحدحکومت کودس ارب بیس کروڑروپے جبکہ جنوبی وزیرستان کیلئے ڈھائی ارب سے زیادہ رقم فراہم کی گئی ہے۔ وزیراعظم گیلانی کاکہناتھاکہ تمام ریاستی ادارے ملک کی ترقی اور خوش حالی کیلئے متحد ہیں اوراس نازک وقت میں خدا کی رحمت سے چیلنجزکامقابلہ کرکے قوم سرخروہوگی۔
وزیر اعظم کے ترجمان کے مطابق کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے لئے شہداء ٹرسٹ فنڈمیں پچاس کروڑروپے دینے کافیصلہ کیاگیاہے۔ کمیٹی نے دہشت گردی کےخلاف جنگ کو پوری طاقت سے جاری رکھنے کافیصلہ کیاہے۔
وہ اسلام آبادمیں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے جس میں کابینہ ارکان ،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہان اور کمیٹی کے ارکان شریک ہوئے۔ وزیراعظم کاکہناتھاکہ قوم مسلح افواج اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ اور سیاسی قیادت متحد ہے۔
انہوں نے کہاکہ مسلح افواج نے قبائلی علاقوں ،سوات اورمالاکنڈ میں ریکارڈ وقت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور پاکستان کی کامیابیاں افغانستان میں اتحادی افواج کی گذشتہ نو سال کی کامیابیوں پر بھاری ہیں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ''حالیہ مہینوں کے دوران ہم نے دہشت گردوں اور جنگجوں کے خلاف نمایاں کامیابی حاصل کی ہے.سوات اور مالاکنڈ میں قانون کے نفاذکے لئے کارروائی ،فاٹا اورخاص طور پر جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن مختصر اور ریکارڈ وقت میں مکمل کیا گیا ہے''.
پاکستانی وزیراعظم کا یہ بیان امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک کی فوجوں کی افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف جنگ میں ناکامی پرایک کھلی تنقید ہے جبکہ امریکا پاکستان سے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں طالبان جنگجوٶں کے خلاف کارروائی کے لئےمزید دباٶ ڈال رہا ہے اورامریکی صدربراک اوباما نے افغانستان میں طالبان کی زورپکڑتی مزاحمت کو کچلنے کے لئے مزید چالیس ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کررکھا ہے لیکن ان کی نئی فوجی حکومت عملی افغانستان میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے.
پاکستانی وزیراعظم نے بعض غیرملکی عہدے داروں اور میڈیا کی جانب سے اس تنقید کو مسترد کردیا کہ ان کا ملک افغانستان میں مغرب کی مدد کے لئے کچھ نہیں کررہا ہے.ان کا کہنا تھا کہ ''افغانستان میں استحکام اور امن کی بحالی پاکستان کے مفاد میں ہے اور اس سلسلہ میں ہم اپنا تعمیری کردار جاری رکھیں گے''.
سید یوسف رضا گیلانی نے طالبان جنگجوٶں کے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عوام پر بم حملوں کے تناظر میں کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جوابی کارروائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ان کاکہنا تھا کہ مادر وطن کے دفاع،آزادی اور خود مختاری کے لیے کسی کوپاکستان کی مسلح افواج کی صلاحیتوں پر شک نہیں کرنا چاہئے اورنہ عوام اور سیاسی قیادت کے عزم کو کمزور سمجھنا چاہیے۔
وزیر اعظم نے اجلاس کو بتایا کہ پچھلے چھے ماہ میں خوراک،بحالی اورامدادی کارروائیوں کیلئے سرحدحکومت کودس ارب بیس کروڑروپے جبکہ جنوبی وزیرستان کیلئے ڈھائی ارب سے زیادہ رقم فراہم کی گئی ہے۔ وزیراعظم گیلانی کاکہناتھاکہ تمام ریاستی ادارے ملک کی ترقی اور خوش حالی کیلئے متحد ہیں اوراس نازک وقت میں خدا کی رحمت سے چیلنجزکامقابلہ کرکے قوم سرخروہوگی۔
وزیر اعظم کے ترجمان کے مطابق کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے لئے شہداء ٹرسٹ فنڈمیں پچاس کروڑروپے دینے کافیصلہ کیاگیاہے۔ کمیٹی نے دہشت گردی کےخلاف جنگ کو پوری طاقت سے جاری رکھنے کافیصلہ کیاہے۔
إرسال تعليق