اخبار| اسرائیل کے اعلی فوجی افسروں کا دورہ برطانیہ منسوخ

اسرائیلی فوج کے اعلی افسروں نے برطانیہ کا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا۔ صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ دورہ اس لئے منسوخ کیا گیا ہے کیونکہ برطانوی حکومت نے اسرائیل کو اس بات کی ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ ان افسروں کو لندن کے سرکاری دورے میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

کثیر الاشاعت عبرانی اخبار "یدیعوت احرونوت" نے اس دورے کا اہتمام کرنے والے اسرائیلی ذرائع سے یہ بیان منسوب کیا ہے کہ "یہ واقعہ انتہائی خطرناک نتائج کا حامل ہے۔" تل ابیب نے ایک مرتبہ پھر جنگی جرائم سے متعلق برطانوی قوانین میں ترمیم کا مطالبہ دہرایا ہے۔

نائب وزیر خارجہ دانی ایالون نے کہا ہے کہ حالیہ واقعہ سے اسرائیل اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو حقیقی طور پر گزند پہنچا ہے۔

اخبار کے مطابق برطانیہ کی اٹارنی جنرل پیڑیسا جینٹ اسکاٹ لینڈ ان دنوں اسرائیل کا دورہ کر رہی ہیں جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیر قانون یعقوب نئمان وایالون سے ملاقات کی اور برطانوی سرکار کے انکار سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

گذشتہ ماہ سابق اسرائیلی وزیر خارجہ و حالیہ قائد حزب اختلاف زیپی لیونی کو بھی اپنا دورہ اس وقت منسوخ کرنا پڑا جب لندن کے ایک مجسٹریٹ نے جنگی جرائم کے الزام میں ان کے ورانٹ گرفتاری جاری کر دیئے تھے۔ تل ابیب نے کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اپنے وزیروں اور دوسرے عہدیداروں کو دورہ برطانیہ سے منع کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں رہا تھا۔

اسرائیل کے سرکاری احتجاج کے بعد برطانیہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے قانونی نظام میں ضروری ترمیم کریں گے تاکہ موجودہ اور سابقہ اسرائیلی قیادت کو استثنا فراہم کیا جائے۔

زیپی لیونی کے ورانٹ جاری کرنے پر تل ابیب میں برطانوی سفیر کو اسرائیلی دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور انہیں ایک احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔

گذشتہ برس دسمبر کے آخری ہفتے میں اسرائیل نے غزہ پر بائیس روزہ ہولناک جنگ مسلط کی جس میں پندرہ سو بے گناہ فلسطینی شہید ہوئے جبکہ ہزاروں دوسرے زخمی یا معذور ہو گئے۔ آسمان سے آتش و آہن کی بارش نے دنیا کے سب سے زیادہ کثیف آبادی والے علاقے میں ہزاروں مکانات اور ریاستی اداروں کی عمارتیں زمین بوس ہوئیں۔

Post a Comment

أحدث أقدم